امت مسلم 29

امت مسلمہ کی غیرت جاگ اٹھی: ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔ ایک ساتھ تین اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

رباط دو اسلامی ممالک مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔روسی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوق نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عبوری حکومت کے پاس اسرائیل سے تعلقات قائم کر نے کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بدامنی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے معاملے کو الگ الگ رکھیں۔ سوڈان میں عبوری حکومت ایک محدود ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد ملک میں امن و استحکام کی بحالی، آزادانہ انتخابات اور دیگر ضروری اقدامات شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا معاملہ ہے اسے عبوری دور کے بعد تک کے لیے موخر کر دینا چاہیے تاکہ اداروں کو ایسے کسی بھی فیصلے کے لیے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہو۔دوسری جانب مراکش کے وزیراعظم سعد الدین العثمانی نے کہا کہ مراکش،اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا سخت اور بھرپور مخالف ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی وجہ سے فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو مزید عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔ دوسری طرف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو سے ہونے والی ملاقات منسوخ کردی، ملاقات کو خفیہ رکھے جانے کا منصوبہ تھا جوکہ صرف ہاتھ ملانے تک محدود تھی۔ملکی و غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکا میں موجودگی تک اس دورے کو خفیہ رکھنے کی شرط رکھی تھی جبکہ محمد بن سلمان کی امریکا سے وطن واپسی کے بعد ملاقات کی وڈیوجاری کیے جانے کا منصوبہ تھا لیکن یہ منصوبہ منظر عام پرآنے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ملاقات سے معذرت کرلی ہے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار اہم اسرائیلی ہم شخصیات کے ساتھ متحدہ عرب امارات پہنچیں گے جس کا مقصدیو اے ای اور سرائیل کے درمیان باقاعدہ کمرشل پروازوں کا آغاز کرنا ہے۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت کے ولی عہد اور اسرائیل کے وزیر اعظم کے مابین کسی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی۔بحرین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور عرب ممالک کی جانب سے تعلقات کی بحالی کی امریکی خواہش اور دبا کو مسترد کردیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اپنے مشرق وسطی کے دورے کے سلسلے میں بحرین کے دارالحکومت ماناما میں موجود ہیں جس کا مقصد صہیونی ریاست کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہے۔البتہ بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسی الخلیفہ نے مائیک پومپیو کو کہا کہ ان کا ملک عرب امن اقدام کے لیے پرعزم ہے جس کے تحت اسرائیل سے پرامن اور تعلقات کی بحالی کے بدلے 1967 فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا چاہتا ہے۔بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی بی این اے کے مطابق بادشاہ نے دو ریاستی حل کے تحت فلسطین اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔یاد رہے کہ پچھلے کئی روز سے امریکہ کے ایماء پر مسلمان ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

Source By: Hassan Nisar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں