92

بھوپال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں انتظامیہ نے شادیوں میں گھوڑوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کی ریاست مدھیاپردیش میں شادیوں کے سیزن سے قبل ہی انتظامیہ نے گھوڑوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ مقامی رسم و رواج کے مطابق عام طور پر بارات میں دلہا گھوڑی پر بیٹھ کر نکلتا ہے تاہم ریاستی دارالحکومت بھوپال کی انتظامیہ نے نوٹی فکیشن میں مؤقف پیش کیا ہے کہ گھوڑوں کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ ’گلینڈرز‘ نامی بیماری کے انکشاف کے بعد کیا اور احتیاط کے طور پر مجبوراً یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ حکم نامے کے تحت گھوڑے کے نقل و حمل، ریس، میلے، نمائش اور ایک جگہ جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھوپال کے علاقے قاضی کیمپ میں ایک پالتو گھوڑے کے خون کے نمونے آئی ایس آر نیشنل ہارس ریسرچ سینٹر بھیجے گئے تھے جہاں سے تصدیق ہوئی ہے کہ گھوڑے میں ’گلینڈرز‘ نامی بیماری ہے اور یہ خطرناک وبائی بیماری ہے جو تیزی سے پھیلتے ہوئے انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہے، گلینڈرز نامی بیماری میں گھوڑے کے جسم پر نشان ابھر آتے ہیں اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیتا ہے جب کہ اس بیماری سے بچنے کے لئے انسانوں کا متاثرہ جانور سے دور رہنا اور بیماری کو روکنے کا واحد حل گھوڑے کو ہلاک کردینا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہونے کے بعد ہندو روایات کے مطابق شادی کرنے والے اور کرائے پر گھوڑے دینے والے مالکان سخت پریشان ہیں، گھوڑا مالکان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو محکمہ صحت کے ساتھ مل کر ایسے گھوڑوں کی نشاندہی کرنی چاہئے جو کسی بھی طرح بیمار ہیں تاہم تمام گھوڑوں پر پابندی عائد کرنا زیادتی کے مترادف ہے کیوں کہ ملک میں شادیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے اور پورا سال اس موسم کے لئے گھوڑوں کی خوراک و خوبصورتی کے لئے خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے جب کہ گھوڑے ہی ہمارا واحد ذریعہ معاش ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں