بھنگ 40

’’حکومت پاکستان اب خود بھنگ کاشت کرے گی ‎‎ بھنگ کی پیداوار کے لیے بہترین ریجن کا انتخاب کر لیا گیا‘‘

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پوٹھوہار ریجن بھنگ کی پیداوار کے لیے بہترین ریجن ہے، حکومت اب خود بھنگ کی کاشت کرے گی۔ اپنے بیان اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک سال میں اپنی ہیئت ہی بدل دی ہے، جو ترجیحات شروع میں طے کی تھیں کافی حد تک پوری کر لی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوشش ہے اسلام آباد وہ پہلا شہر ہو جہاں تمام پبلک ٹرانسپورٹ الیکٹرک ہو، دو کمپنیوں کے 50 ملین ڈالر کا

الیکٹرک بسوں کا منصوبہ شروع ہوا ہے، 120 الیکٹرک بسیں اسی سال درآمد کی جائیں گی، خواتین کے لیے الیکٹرک بائیک لا رہے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ آئندہ سال الیکٹرک بسوں کی پاکستان میں اسیمبلنگ کی جائے گی، ہم 10 سال میں قابل تجدید انرجی بنا سکیں گے، ہم اگلے دس سالوں میں اپنی بجلی اور اپنی بیٹریز بنا رہے ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز ہمیں صنعتی طور پر بھنگ کے پودوں کے استعمال کا لائسنس ملا ہے، بھنگ کے حوالے سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے تاریخ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ 2016 کے بعد ایک انقلابی ریسرچ بھی سامنے آئی کہ بھنگ میں موجود عنصر کے اثرات شدید درد کے مریضوں کے لیے اہم کردارادا کرتے ہیں، چین اب 40 ہزار ایکٹر، کینڈا 1 لاکھ ایکٹر پر بھنگ کی کاشت کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ بھنگ کے پودے سے فائبر بھی بنتا ہے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مفید ہے، کپاس کی پیداوار کم ہونے پر بھنگ کا پودا اس کی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت فی الحال خود بھنگ کی پیداوار پر مزید ریسرچ اور سیف گارڈ طے کرے گی، یہ پودا حکومت خود پیدا کرے گی۔وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ بھنگ کی مارکیٹ 1 بلین ڈالر اگلے تین سالوں میں دے سکیں۔انہوں نے کہاکہ پوٹھوہار کے علاقے کی آب و ہوا بھنگ کی پیداوار کے لیے موزوں ہے، بھنگ کا ادویات کی پیدوار میں استعمال ہو گا۔انہوں نے کہا کہ بھنگ سے کینسر کی ادویات اور ایتھلیٹس کے لیے آئل بھی بن رہا ہے، یہ بھنگ کی فیملی سے ضرور ہے لیکن بھنگ نہیں ہے، یہ پودا گھول کر بھی پی لیں گے تو کوئی اثر نہیں ہو گا۔‎.

Source by: Javed Chaudhry

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں