115

سونے کے مختلف انداز صحت اور جوانی پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں

ایک عام انسان کی عُمر اگر 70 سے 80 سال ہو تو وہ اپنی عمر کے تقریباً 25 سال سو کر گُزار دیتا ہے، نیند ہماری صحت کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے جسے لینے کے بعد انسانی جسم کی جہاں تھکاوٹ اُترتی ہے وہاں جسم سونے کے بعد تروتازہ ہوجاتا ہے اور ہم روزمرہ کے افعال سرانجام دینے کے لیے پھر سے چاک وجوبند ہو جاتے ہیں ۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دُنیا میں وقت انتہائی قیمتی چیز ہے اور سونے کے دوران جو وقت ہم خرچ کرتے ہیں اگر وہ ہمارے جسم و دماغ کو تروتازہ نہیں کرتا اور سو کر اُٹھنے کے باوجود اگرہم تھکاوٹ محسوس کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کہیں کوئی خرابی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم سونے کے مختلف انداز کا ہماری صحت پر کیا اثر ہوتا ہے ذکر کریں گے اور جانیں گے کے سونے کے مختلف انداز ہمارے جسم اور صحت پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

نمبر ۱ سولجر سٹائل

دونوں بازوں کو سائیڈز پر رکھتے ہُوئے سیدھے لیٹ کر سونا ماہرین کے مُطابق سونے کا بہترین طریقہ ہے اور یہ انداز یوگا ورزش کے کُچھ آسنوں سے ملتا ہے اور صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔
اس انداز سے سونے سے کمر گردن اور بازوں کی تھکاوٹ دُور ہوتی ہے اور معدے سے تیزابیت کا خاتمہ ہوتا ہے، اس انداز میں انسان گہری نیند سوتا ہے اور یہ انداز سر درد کو آرام پہنچاتا ہے، اور جلد پر عمر کے ساتھ پڑنے والی جھریوں کو روکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیدھا سونے سے زُبان پر کشش ثقل کی وجہ سے نیچے کی طرف کھنچاو پڑتا ہے جس سے لوگ خراٹے زیادہ لیتے ہیں اور اس انداز سے دیر تک سونے سے کمر کے نچلے حصے میں درد پیدا ہو سکتا ہے اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ سیدھے سوتے وقت تکیے کا استعمال نہ کریں اس سے خراٹے پیدا نہیں ہوں گے اور گردن کے نیچے موٹا تکیہ رکھنے سے کمر پر دباو نہیں پڑے گا۔

نمبر 2 سٹار فش

دونوں بازو سر کے نیچے یا سائیڈ پر رکھ کر کمر کے بل سونے کے اس انداز کو سٹار فش کہتے ہیں جو کمر گردن اور سپائن کو آرام پہنچانے کا بہترین انداز ہے، اس انداز سے سونے سے معدے پر دباو نہیں پڑتا اور معدے میں تیزابیت پیدا نہیں ہوتی جسکی وجہ سے انسان گہری نیند سونے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انداز سے سونے سے دل سارے جسم کو خون کی ترسیل بہتر طریقے سے کرتا ہے جس سے سونے کے دوران جلد پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان جلد پرجھریاں پڑنے سے بچا رہتا ہے۔

اس انداز سے سونے سے خراٹوں کی بیماری تقویت حاصل کرتی ہے اور بازو وں کی پوزیشن کی وجہ سے پٹھوں پر کھچاوپڑتا ہے جس سے کندھوں میں درد لاحق ہو سکتی ہے اور مسلسل اسی پوزیشن پر سونے سے کمر درد بھی لاحق ہوسکتی ہے جس سے بچنے کے لیے اس انداز میں سوتے ہُوئے تکیے کا استعمال نہ کریں۔

نمبر 3 ایک سائیڈ پر سونا

اس انداز میں ہم اپنے جسم کو ایک سائیڈ پر کروٹ دیتے ہیں اور دونوں بازو سیدھے رکھتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انداز میں سونے کے لیے بائیں طرف سوئیں ، ایسا کرنے سے آپ کے جسم کے اندرونی اعضا کو تقویت ملے گی اور کشش ثقل سونے کے دوران اُن کے کام پر کم اثر انداز ہو گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کہ اس انداز سے سپائن کو مکمل آرام ملتا ہے ، انسان گہری نیند سوتا ہے اور اس انداز سے سونے سے خراٹے پیدا نہیں ہوتے، ماہرین کے مُطابق حاملہ خواتین کے لیے یہ سونے کا بہترین انداز ہے۔

اس انداز سے سونے سے اوپر والی ٹانگ کو سپورٹ نہیں ملتی جس کی وجہ سے ماہرین کے مطابق زیادہ دیر اسی انداز کو اختیار کرنے سے کمر درد اورگردن میں درد پیدا ہوتی ہے اور چونکہ خون کشش ثقل کی وجہ جسم کے نیچے والے حصے میں زیادہ بہاو رکھتا ہے جس سے جلد پر عمر کے اثرات جلدی ظاہر ہوتے ہیں اور جھریاں جلدی پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انداز میں سوتے وقت چونکہ گردن کو سپورٹ حاصل نہیں ہوتی اس لیے سوتے وقت بڑا تکیہ استعمال کرنے سے گردن درد سے بچا جا سکتا ہے اور ایسے سوتے وقت ایک بڑا تکیہ ٹانگوں کے درمیان رکھنے سے اوپر والی ٹانگ کوسپورٹ دی جا سکتی ہے۔

نمبر 4 ایک سائیڈ پر سوتے ہُوئے ہاتھ سر کے نیچے رکھنا

ٹانگوں میں خم رکھتے ہُوئے ایک سائیڈ پر سونا اور دونوں بازو بھی ایک سائیڈ پر رکھ کر ہاتھ سر کے نیچے رکھتے ہُوئے سونے کے انداز کو یرنر سٹائل کہتے ہیں اور سونے کے اس انداز سے گردن اور کمر درد سے بچا جا سکتا ہے، ماہرین کے مُطابق یہ انداز ہارٹ برن جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے اور اس سے انسان گہری نیند سوتا ہے، اس انداز سے سونے سے دماغ سے آلودگی خارج ہوتی ہے اور انسان بھولنے اور ریشہ جیسی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔

ایک تحقیق کے مُطابق اس انداز سے سونے والے رات کے درمیانی حصے میں جاگنے سے بچے رہتے ہیں اور گہری نیند حاصل کر پاتے ہیں کیونکہ اس انداز سے سارا جسم سکون محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انداز سے زیادہ دیر سونے پر خون کا پریشر سارے جسم میں یکساں نہیں رہتا اور پٹھوں پر کنھچاوبڑھ سکتا ہےاور کندھوں میں درد لاحق ہو سکتی ہے جس سے بچنے کے لیے ماہرین تکیے کا استعمال لازمی قرار دیتے ہیں۔

نمبر 5 فیٹل پوزیشن

اس انداز سے سونے سے خراٹوں کی بیماری سے بچا جاسکتا ہے اور حاملہ خواتین کے لیے یہ سونے کا بہترین انداز ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کو اس انداز پر دیر تک رکھنا گردن کے پٹھوں پر کھنچاواور کمر درد کا باعث بنتا ہے جس سے بچنے کے لیے نرم تکیہ استعمال کرنا مفید ہوتا ہے ۔

نمبر 6 اُلٹے سونا

سونے کا یہ انداز خراٹوں سے چھٹکارا عطا کرتا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کا ٹھیک انداز نہیں ہے جس سے گردن اور سپائن میں درد ہوسکتا ہے اور اس انداز سے سونے سے چہرے کی طرف خون کا بہاوکم ہو جاتا ہے جس سے چہرے پر جھریاں پڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور سونے کے اس انداز سے جسم کے اندرونی اعضا پر بھی دباوپڑتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں