230

نقیب اللہ محسود کا بختاور بھٹو سے نکاح اور لڑکیاں سپلائی کرنے والی نامور پاکستانی

چند یوم قبل امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے ایک بیان نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کروانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود اور ٓآصف علی زرداری کی بیٹی کے درمیان مبینہ تعلق کا دعویٰ کیا جس کی تہلکہ خیز ویڈیونیچے دیکھی جا سکتی ہے۔

اور اس کے علاوہ انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی ایم ) کی گلالئی اسماعیل کے حوالے سے بھی انکشاف کیا تھا کہ وہ بھی مردوں کو لڑکیاں سپلائی کرنے کا کام کیا کرتی تھیں اس پر آپ نیوز کے اینکر جمیل فاروقی کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ جمیل فاروقی نے کہا تھا کہ دو سال قبل میں نے یہ اسٹوری لکھی تھی -میراکالم بڑوں بڑوں کوہلا گیا مگر نہ ہل سکا تو سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار نہ ہل سکا -اب امریکی بلاگر بولی ہے تویہ اس بات کی تصدیق ہے کہ میرے کالم میں چھپنے والی اسٹوری من و عن درست تھی – جمیل فاروقی نے کہا کہ امریکی صحافیو! تحقیقات میں دو سال لگانے پر اکیس توپوں کی سلامی۔ 2018 میں چھپنے والے اس کالم میں اینکر جمیل فاروقی نے چونکا دینے والے انکشافات کئے تھے کہ نقیب اللہ محسود کے سندھ کی معروف سیاسی شخصیت کی بیٹی سے تعلقات تھے جس کی وجہ سے پولیس کو اسے ختم کرنے کا ٹاسک دیاگیا ہے۔ اپنے کالم میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ماڈل جیسا دکھنے والا نقیب اللہ محسود ایک اہم سیاسی رہنما کی بیٹی کے عشق میں گرفتارتھاجبکہ لڑکی بھی اس پر مرمٹی تھی نقیب اللہ محسود اور وہ لڑکی دونوں ماڈلنگ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اپنے کالم میں جمیل فاروقی نے نقیب اللہ محسود اور اس لڑکی کے درمیان ہونیوالی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس لڑکی نے نقیب اللہ محسود کو بتایا تھا کہ میں نکاح کے لئے تیار ہوں۔ جس پر نقیب اللہ محسود نے اسے کہا تھا کہ مجھے کچھ ڈر لگ رہا ہے ایک ڈر اپنی بیوی اوربچوں کا ہے۔

جبکہ دوسرا ڈر تمہارے گھر والوں کا ہے ، جس پر لڑکی نے اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ کچھ نہیں ہوگا بعد ازاں یہ معاملات دونوں نے باہمی رضامندی سے جنوری کے دوسرے ہفتے تک موخر کردیئے تھے ۔ معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی نے مزید انکشاف کیا کہ لڑکی کی ہر کال ٹریس کی جارہی تھی اور لڑکی کا امیر باپ جو کہ سندھ کی معروف سیاسی جماعت کا عہدیداربھی ہے اس نے اس معاملے سے بچنے کے لئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا اور نقیب اللہ محسود سے نمٹنے کا کہا جس پر ایس ایچ او نے اس معاملے سے راﺅ انوار کو آگاہ کیا اور پھر ”سائیں“ کے حکم پر نقیب اللہ محسود کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ہوٹل کے باہرسے اٹھایا اور نامعلوم مقام پر لے گئے ۔ اس کالم میں جمیل فاروقی کا دعویٰ تھا کہ لڑکی کے والد جو کہ اہم سیاسی شخصیت بھی ہیں نے نقیب اللہ محسود کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا تھا اور آخر کار اسے ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیا گیا جمیل فاروقی نے اس حیرت انگیز داستان کے اختتام پر اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ کہانی کتنی درست ہے اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ بعدازاں دو سال بعد اس خبر کی امریکی صحافی نے تصدیق کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا ۔نیچے ویڈیو دیکھئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں