پیشہ ورانہ تعلیم کیا ہے اور عصر حاضر میں‌اس کی کیا ضرورت و اہمیت ہے 220

پیشہ ورانہ تعلیم کیا ہے اور عصر حاضر میں‌اس کی کیا ضرورت و اہمیت ہے

معیشت کی دنیا میں‌نہایت برق رفتاری سے تبدیلی آرہی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں انہیں قوموں نے پہلے بھی ترقی کی اور آج بھی کر رہی ہیں‌جنہوں نے اپنی معیشت کو تعلیم کے ساتھ منسلک کیا ۔ دنیا کے بدلتے ہوئے نقشے میں ہرانسان کے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کوئی بھی ہنر سیکھے اور پھر اس میں‌ایسی مہارت حاصل کرے کہ وہ تحسین ہو.۔خصوصی مہارت کے حامل افراد کو ہی آئندہ دور میں‌اچھی نوکری ملے گی اور اگر نہیں‌تو وہ خود سے ایک بہترین کاروبار چلاسکتے ہیں۔ایسے ادارے جو پیشہ ورانہ تعلیم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں‌،ہی معاشرے کے افراد کو اچھی ہنرمند تعلیم دے سکتنے ہیں اور معاشرے کا کاراآمد اور خود مختار فرد بناسکتے ہیں‌. ایک ایسا فرد جو نہ تو اپنے ملک اور گھر والوں پر بوجھ بنے بلکہ واپنے گھر ملک وملت کے لئے نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے.
پیشہ ورانہ تعلیم سے مراد کسی فرد یا افراد کو کسی خاص کام میں تعلیم کے ذریعے ماہر بناناہے ۔تعلیم کے ذریعے ماہر بنانے سے مراد ہے کہ ہنر کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی ہو اور ایسی تعلیم جو مطلوبہ ہنر میں‌معاون ثابت ہو. یہ مہارت زیادہ ترتجارت ،فنِ حساب ،نرسنگ،طب، فنِ تعمیر، کاریگری،تکنیک کار، ماہرِفنیات، انجنیئرنگ اور قانون میں ہو سکتی ہے۔اسی طرح اِن سب پیشوں میں سے مزیدکلیدی درجہ بندی کی گنجائش ہے اور خصوصی مہارت کے مزید مضا مین متعارف کروائے اور شعبہ جات تشکیل دیے جاسکتے ہیں۔ یوں معاشرے کا کوئی بھی فرد اپنی لگن اورخدا داد صلاحیتوں کو پہچان کر اپنی زندگی کی راہ اختیار کرسکتا ہے .

سوچنے کی بات یہ ہے کہ دور حاضر میں‌پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کیوں بڑھتی نظر آرہی ہے اِس سلسلے میں اگر ہم نظر عمیق سے اپنے گزشتہ دور کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ 1950ء کے دور میں 80فیصد نوکریاں پر غیر ہنر مند افراد تعینات تھے. اس کے برعکس آج کے دور میں 85فیصد نوکریاں ہنرمند لوگوں کے پاس ہیں۔اس بہت بڑی تبدیلی کی وجہ سے دور حاضر میں پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں‌بھی پورے عالم کی طرح ایک سماجی اور اقتصادی انقلاب برپا ہونے والاہے۔ دفتروں اورکارخانوں میں کام کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور اسی طرح بہتر معیار کے لئے ہنر مند ہونا لازم قرار پا گیا ہے۔اگر پاکستان کو دیکھا جا ئے تو ایک کثیر آبادی والا ملک ہے اور اِس کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشمل ہے اسی لیے ہمیں اِس شعبہ میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اب تک کے اعداد وشمار کے مطابق
پاکستان میں کل 3581 پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے TVET (Technical Vocational Education and Training)کے نام سےپاکستان کے طول وعرض میں‌طلباکو پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔ اِن میں سے 1177 سرکاری اور 2404 پرائیوٹ ادارے ہیں۔ اگر صوبائی سطح پر جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں کل 1817، سندھ میں 585 ،کے پی کے میں 599، بلوچستان میں125،گلگت بلتستان میں 175،آزاد کشمیر میں 114، فاٹا میں61 اور وفاقی دارالحکومت میں کل 103پیشہ ورانہ ادارے مصروف عمل ہیں۔
دور حاضر ایک عالمگیر دور ہے جس نے دنیا کے فاصلے سمیٹ‌کر رکھ دیے ہیں اور موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنےنئی نسل کو ہنر مند بنائیں تاکہ ہم دنیا میں کم قیمت کے ساتھ ساتھ معیار ی اشیاء کو بھی پوری دنیا میں متعارف کرواسکیں۔اس جدید دور میں کہ جہاں‌ہر شعبہ اور مارکیٹ‌میں ایک مقابلہ بازی جاری ہے ہمیں‌معیاری اور سستی اشیا دنیا میں متعارف کروانی ہونگی ۔ بیسویں صدی عیسوی تک پیشہ ورانہ تعلیم کا دائرہ بہت ہی محدود اور مختصر تھا اورصرف آٹو موبائل ، ویلڈر اور الیکٹریشن کی تعلیم کو ہی پیشہ ورانہ تعلیم کی نظر سے دیکھا اور مانا جاتا تھا لیکن ایکسویں صدی کےآغاز میں‌ہی دنیا میں ٹیکنالوجی نے اپنا ایسا پنجا گاڑا ہےکہ دنیا میں‌پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح‌پر پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے تعمیر کئے جارہے ہیں۔۔یہ تعلیم ہمیں پرچون (ریٹیل) ،سیاحت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاسمیٹک، روایتی دستکاری اور گھریلو صنعتکاری سمیت زندگی کے تمام شعبہ جات میں‌نظر آرہی ہے۔

درج بالا طویل بحث سے آپ کو پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا ۔ تمام والدین اپنی اولاد کے بارے نہایت بلند خواہشات رکھتے ہیں‌اور اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے وائٹ کالر نوکری کریں اور بلیو کالر نوکری کو اچھی نگاہ سے نہیں‌دیکھا جاتااور یہ سوچ ہماری قوم کےلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔والدین کو اپنے بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے پسند کا جو بھی ہنر حاصل کرنا چاھتے ہیں وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اِس میں کسی بھی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ہمارا دین اسلام بھی ہمیں‌یہی درس دیتا ہے کہ حقیر سے حقیر پیشہ اختیار کرنا بھیک مانگنے سے بہتر ہے . اور پیشہ وارانہ تعلیم تو ہمیں‌نہ صر بھیک سے بچاتی ہے بلکہ کسی کی نوکری کرنے سے بھی بچاتی ہے . پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعے ہم ہنر مند ہوکر اپنا خود اچھا روزگار بنا سکتے ہیں‌اور اپنے اولاد کا اچھا مستقبل بنا سکتے ہیں .ہمیں‌اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ ہم بجائے روایتی تعلیم حاصل کرکے نوکری اور ملازمت کرنے کے پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کریں اور اپنا کاروبار کریں‌. اِس طرح ہمارے ملک میں سمال انڈسٹری یا کاٹیج انڈسٹری کوترقی کرے گی۔۔
اگرہم عالمگیر نقطہ نظر سے دیکھیں‌تو دنیا میں‌کچھ ایسے ممالک بھی ہیں‌جنہوں‌نے پیشہ ورانہ تعلیم کو اپنے سکول وکالجزمیں‌جزو لازم کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔اس لئے کہ وہ اس تعلیم کی اہمیت سے واقف ہیں‌اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں‌کہ بغیر پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کیے ہم اپنے ملک کو ترقی نہیں‌دے سکتے اورنہ ہی بین الااقوامی مارکیٹ اور عالمی منڈیوں میں اپنے ملک کا نام پیدا کرسکتے ہیں۔
کچھ اداروں نے اِس سلسلے میں خود عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے معاشرے کے غریب طبقہ سے بچوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دے کر اُن کے لئے نوکریوں کا بھی اہتمام کیا ہےجوکہ ایک بہترین اور خوش آئند بات ہے۔ عوام کی طرف ایسے اقدامات کو سراہا جانا چاہئے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس جیسے عملی اقدامات کرے ۔اگرہمار ایہ مشن ہے کہ ہم انے ایک مضبوط سماجی و معاشی ملک ومعاشرہ تشکیل دینا ہے تو وہ اپنے افراد کو ہنر مند بنائے بغیر ناممکن ہے۔دور حاضر میں‌اس کی اہمیت مزید بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب وطن عزیز میں‌بیرونی ممالک جن میں‌سعودیہ ، ملائشیا اور چائنا وغیرہ آکر سرمایہ کاری کر رہے ہیں‌تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے افراد کو ہنر مند بنائیں. مثال کے طور پر چائنا CPECبنارہا ہے تو ہمیں سول انجیئرنگ کی فیلڈ میں‌اور سعودیہ آئل ریفائنری لگارہا ہے تو ہمیں مکینیکل ، الیکٹریکل اور دیگر متعلقہ شعبہ جات کے حوالہ سے اپنے افراد کو تیار کرنا ہوگا. ورنہ یہ جگہ بیرونی ممالک لیں‌گے اور ہم جوں‌کے توں رہ جائیں گے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں