ڈاکٹر اسرار احمد 28

ڈاکٹر اسرار احمد کا کہا سچ ثابت، سعودی عرب سے آنے والی خبر نے عرب ممالک کو ہلا کر رکھ دیا

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وبا کے باعث عالمی معیشت میں آںے والے سست روی کو صدی کے بدترین معاشی بحران کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی کے باعث دنیا میں تیل کی قیمتوں

میں بھی کمی واقع ہوئی اور جن ممالک کی برآمدات کا زیادہ انحصار تیل پر تھا انہیں بہت بڑا دھچکا بھی لگا ہے۔سعودی عرب کے ادارہ شمایارت کے مطابق گزشتہ برس جون کے مقابلے میں رواں سال جون کے مہینے میں سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں 55 فی صد کمی ہوئی جو کہ سعودی عرب کی مجموعی آمدن میں 8.7 ارب ڈالر کی کمی کے برابر ہے۔جبکہ پچھلے مہینے جولائی میں سعودی عرب کی تیل کی مجموعی برآمدات میں کچھ بہتری آئی ہے اور ایک ماہ کے دوران ان میں 19.01فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 1.86 ارب ڈالر کے مساوی بنتا ہے۔سعودی آرامکو تیل کی پیداوار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے تاہم اسے انتہائی سستے نرخوں پر تیل کی فروخت کے بارے میں حکمت عملی متعین کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں سعودی عرب کی سال بہ سال تیل کی برآمدات میں 12 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مگر اب صورتحال بتدریج بہتری کی جانب جا رہی ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے چین کو خام تیل کی سپلائی میں جولائی کے دوران بڑے پیمانے پر کمی ہوئی جس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کے نرخ گرنے پر اوپیک پلس ملکوں کا پیداوار میں کمی کا معاہدہ ہے، ماہ کے دوران ریاض سے بیجنگ کو کل 5.36 ملین ٹن(1.26 ملین بیرل یومیہ ) خام تیل سپلائی کیا گیا جوکہ 2019 ء کے اسی مہینے کے 6.99 ملین ٹن سے کہیں کم ہے، جون 2020 ء کے دوران چین کو سپلائی ہونے والے خام تیل کا وزن 8.88 ملین ٹن رہا تھا۔رائٹرز کے مطابق چین کو خام تیل کے دوبڑے سپلائرز میں روس اور سعودی عرب تھے تاہم جولائی کے دوران دوسری پوزیشن عراق نے لے لی۔ روس جولائی کے دوران چین کو تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا سپلائر رہا

جس نے ماہ کے دوران 7.38 ملین ٹن (1.74 ملین بیرل یومیہ) خام تیل سپلائی کیا۔دوسرے نمبر پر عراق رہا جس نے ماہ کے دوران بیجنگ کو 5.79 ملین ٹن خام تیل سپلائی کیا۔امریکا سے خام تیل کی درآمد جولائی کے دوران سالانہ بنیاد پر 139 فیصد اضافے کے ساتھ 3.7 ملین ٹن رہی جس کی وجہ اپریل میں امریکی تیل کے نرخ منفی میں جانے کے بعد چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے زیادہ خریداری ہے۔اس کے علاوہ جولائی کے دوران ملائیشیا سے 3 لاکھ 87 ہزار 792 ٹن خام تیل درآمد کیا گیا تاہم یہ جون کی نسبت 71 فیصد کم رہا۔

Source By : Markhor Tv

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں