success 182

کامیابی کیا ہے؟

ہر شخص کے نزدیک کامیابی کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ کوئی پیسے کے حصول کو کامیابی سمجھتا ہے اور کوئی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کو اپنی زندگی کی معراج بنا لیتا ہے۔ کچھ لوگ اچھی نوکری، گاڑی اور بنگلے کو کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں۔ جبکہ کسی کے نزدیک کامیابی یہ ہے کہ لوگ اسے جھک کر سلام کریں۔ شائد ہی کوئی ایسا ہو جو یہ کہے کہ اگر اسے مرنے کا سلیقہ آجائے اور رگوں سے جان نکلتے ہوئے وہ اس بات پر مطمئن رہے کہ اس نے دنیا میں اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیا، تو وہ سمجھے گا کہ وہ کامیاب ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے کسی کو کہا تھا ’’میں چاہتا ہوں جب روز قیامت اللہ کے حضور پیش کیا جاؤں اور وہ مجھے کہے کہ ویل ڈن مسٹر جناح! تم نے اپنا کام بخوبی انجام دیا تو میں سمجھوں گا کہ میں کامیاب ہوگیا‘‘۔ پیغمبروں کے پیغمبر حضرت محمدﷺ کی سکھلائی ہوئی دعائوں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے کہ (مفہوم) ’’اے اللہ! میرے ہر کام کا انجام اچھا کر‘‘۔

کامیابی کے مختلف پیمانوں کی ایک وجہ خدا کی عطاکردہ کسی نعمت سے محرومی بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہر شخص کی زندگی کی محرومی اس کے نزدیک کامیابی کا معیار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس گاڑی نہیں مگر اس کے ساتھ کام کرنے والے ہم رتبہ کولیگز اپنی گاڑیوں پر دفتر آئیں تو لامحالہ اس کے نزدیک گاڑی کا حصول ہی کامیابی کے مترادف ہوگا۔ اسی طرح ایک ہی گھر میں پیدا ہونے والے چار بھائیوں میں سے اگر دو کے پاس ذاتی گھر ہو اور دو کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوں تو آپ یقیناً کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی آنکھوں میں ہمہ وقت دوسرے دونوں بھائیوں کےلیے حسد و رشک کے ملے جلے جذبات دیکھیں گے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنے ذاتی گھر میں رہائش رکھنے والے بھائی اور اپنی ذاتی گاڑیوں میں آفس آنے والے کولیگز کامیاب افراد ہیں؟ اسی سے جڑا ہوا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کرائے کے مکان میں رہائش پذیر بھائی اور موٹر سائیکلوں یا بسوں میں آفس آنے والے افراد ناکام ہیں؟ آخر ان سوالات کا درست جواب کیا ہے؟

دراصل ہم لوگ اکثر، ناکامی یا کامیابی کو ہمیشہ ایک مختصر وقت کے تناظر میں دیکھتے ہیں، اور اس بصیرت سے محروم ہوتے ہیں جو ہمیں دوررس کامیابیوں کےلیے جدوجہد پر اکساتی ہے۔

برونی ویئر(Bronnie Ware ) ایک آسٹریلین رائٹر اور ’’موٹی ویشنل اسپیکر‘‘ ہے۔ اس نے اپنی کتاب ’’مرتے ہوئے لوگوں کے پانچ پچھتاووں‘‘
(The Top Five Regrets Of The Dying) میں بستر مرگ پر موجود لوگوں سے مذکورہ بالا سوالات کے جواب جاننے کی کو شش کی ہے۔ برونی ویئر شعبے کے لحاظ سے ایک نرس تھی، جس کی ڈیوٹی اس سینٹر میں تھی جہاں ان مریضوں کو لایا جاتا تھا جن کے بچنے کی امید بہت کم تھی۔ برونی ویئر کا کہنا ہے کہ بستر مرگ پر پڑے ان مریضوں کے ساتھ آخری لمحات گزارنے سے مجھ پر زندگی کی وہ حقیقتیں منکشف ہوئیں، جن سے میں پہلے بے خبر تھی۔ مجھے پتہ چلا کہ ایک مرتے ہوئے شخص کی سوچ ایک زندہ شخص سے کس قدر مختلف ہوتی ہے۔ ایک مرتے ہوئے شخص کے نزدیک کامیابی کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے ۔

برونی ویئر کے مطابق عام طور پر ہم لوگ کامیابی کا معیار طے کرتے ہوئے کسی دوسرے کے ساتھ موازنہ ضرور کرتے ہیں، مثلاً میں گاڑی لینا چاہتی ہوں کیونکہ میری کولیگ نرس کے پاس گاڑی ہے۔ مگر برونی ویئر نے دیکھا کہ مرتا ہوا شخص اپنی کوششوں کا موازنہ اپنی ہی حاصل کردہ کامیابیوں سے کرتا ہے۔ اور جان لیتا ہے کہ وہ زندگی میں کس کس جگہ پر ناکام ہوا ہے۔ بسترمرگ پر موجود شخص اپنا موازنہ دوسروں کی کامیابی سے نہیں کرتا۔

برونی ویئر کہتی ہے کہ آپ بھی کامیابی کو اس طرح جان سکتے ہیں جس طرح ایک مرتا ہوا شخص اس سے واقف ہوتا ہے۔ اس کےلیے آپ کو فقط یہ کرنا ہے کہ آپ ایک لمحے کےلیے فرض کرلیں کہ آج آپ کی زندگی کا آخری دن ہے۔ اس احساس کے بعد آپ کے ذہن و دل میں جو پہلا پچھتاوا آئے گا وہ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامی ہوگا۔ برونی ویئر نے اس بنیاد پر کہ کتنے لوگوں کو اپنے آخری لمحات میں کس چیز کا افسوس تھا، ان تمام حسرتوں اور پچھتاووں کی درجہ بندی کی ہے جو اس کے مشاہدے میں آئی ہیں۔ برونی ویئر کے مطابق:

1۔ سب سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو اپنے ماضی پر اس وجہ سے متاسف تھے کہ وہ جن خوابوں کے ساتھ جینا چاہتے تھے انہوں نے ان کے حصول کی کوشش نہیں کی اور شروع میں ملنے والی ناکامیوں سے اتنے مایوس ہوئے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا رخ ہی بدل لیا۔

2۔ دوسری بڑی تعداد ان تمام مرد مریضوں پر مشتمل تھی، جنہیں اس بات کا پچھتاوا تھا کہ وہ ساری عمر پیسہ بنانے کی مشین بنے رہے اور اپنی فیملی کو وہ وقت نہیں دے سکے جو انہیں دینا چاہیے تھا۔

3۔ تیسرے نمبر پر وہ لوگ آتے تھے جن کا یہ ماننا تھا کہ انہوں نے لوگوں کے رویے کے ڈر سے، اور ان سے تعلق خراب ہونے کے ڈر سے، اپنے تعلقات میں ایمانداری اختیار نہیں کی اور ان کی منافقت کی وجہ سے انہیں کبھی سچی خوشی نہیں مل سکی۔

4۔ چوتھے نمبر پر وہ لوگ تھے جن کی زندگی کا پچھتاوا یہ تھا کہ انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا

5۔ پانچویں نمبر پر وہ لوگ تھے جنہیں بستر مرگ پر اس بات کا احساس ہوا تھا کہ زندگی میں خوشی کا حصول ہی دراصل کامیابی تھی اور خوشی ان کے اپنے اختیار میں تھی، مگر وہ اس بات سے ناواقف رہے اور دوسروں کے رویے کی وجہ سے جلتے کڑھتے رہے۔

برونی ویئر کی کتاب کامیابی کے بارے میں ایک اور طرح سے سوچنے اور زندگی کو ایک اور طرح سے جینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو کامیابی کے پیمانے پر، ہم لوگوں کو تین طرح تقسیم کرسکتے ہیں۔

اول: زندگی میں واضح مقاصد رکھنے والے بلند حوصلہ لوگ، جو کسی بھی حال میں ہمت نہیں ہارتے اور ان کی مشکلات ان کے فوکسڈ رویے اور ان کی اپنے مقصد کے ساتھ لگن کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہیں اور یہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے۔

دوم: کم ہمت لوگ، جو پہلی ناکامی پر ہی اتنے دل برداشتہ ہوجاتے ہیں کہ دوبارہ کوشش ہی نہیں کرتے۔ لہٰذا ان کا مقدر ناکامیوں سے تعبیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ مایوسی کے گہرے بادلوں میں رہتے ہیں اور کبھی اپنے حال پر خوش نہیں ہوتے۔ بلکہ خوشی کے پرمسرت لمحات سے بھی مایوسی کا زہر کشید کرتے رہتے ہیں اور یہ زہر اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں انجیکٹ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے ہر حال میں بچنا چاہیے، کیونکہ اگر آپ ان کے ساتھی ہیں تو چاہے آپ کتنے بھی مضبوط کیوں نہ ہوں، ان کی سوچ کا زہر آپ کی ہمت کو بھی توڑ دیتا ہے اور آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ناکامیوں کے قبرستان کی حسرتناک داستان بن جاتے ہیں۔

سوم: ’کنفیوزڈ لوگ‘ دنیا کی اکثریت انہی تیسری قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ’کنفیوزڈ لوگ‘ پہلی قسم کے لوگوں کی زندگی سے متاثر ہوتے ہیں، اپنی ہمت اکٹھی کرتے ہیں، اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، مگر ناکام ہوتے ہیں اور کم ہمت لوگوں کی طرح حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر کسی سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں اور آخرکار زندگی کی حتمی لڑائی میں ظفریاب ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا زندگی کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے کہ اگر زندگی کا انجام خیر پر ہے تو سمجھ لیجئے کہ ساری زندگی کامیاب ہے۔ لیکن اگر انجام اچھا نہیں تو ساری عمر کی کامیابیاں بھی بستر مرگ پر ذہن میں در آنے والے پچھتاووں کو نہیں روک سکتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں