D Chowk of Islamabad 5

بلاول کی نیب میں پیشی، اسلام آباد کا ڈی چوک میدان جنگ بن گیا، کئی جیالے گرفتار

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آج نیب کے سامنے پیش ہو گئے۔ نیب پیشی کے موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد احتجاج کی غرض سے اسلام آباد کے ڈی چوک پر اکٹھی ہو گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے ڈی چوک میدان جنگ بن گیا۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کیا۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارک لین کمپنی کی انکوائری میں نیب آفس اسلام آباد میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔ اس موقع پر پولیس نے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ جانے والے کارکنان کو ڈی چوک پر روک لیا جہاں پولیس اور جیالوں میں ہاتھا پائی ہوئی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے نیب دفتر تک پہنچنے والے سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ں نیب کی جانب سے انہیں 32 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا۔ جس کا جواب 10 روز میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو کی ہمشرہ آصفہ بختاور بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

پولیس کی جانب سے پیپلز پارٹی رہنماؤں نوید قمر، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، ہمایون خان سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی ڈی چوک جانے سے روک دیا گیا تاہم پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی، پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ اور پولیس افسران کے درمیان بھی جھڑپ کے دوران پیپلز پارٹی کی بزرگ کارکن طاھرہ بادشاہ اور گلنار بادشاہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔

کارکنوں کو روکنے اور گرفتار کرنے پر بلاول بھٹو نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی حقوق روکنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

یاد رہے کہ نیب نے بلاول بھٹو ک ساتھ ان کے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی طلب کیا تھا تاہم آصف علی زرداری نے پیش ہونے سے معذرت کر لی اور عید کے بعد پیشی کی کوئی تاریخ مانگ لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں